حضور شیرنیپال تعارف و خدمات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوۃ والسلام علیک وعلی اٰلک یا رسول اللہ ﷺ
یہ دل تو عقیدت کے گلابوں سے دھلا ہے
آتی ہے اسے خاک رہ یار سے خوشبو
یہ کون گلابوں سا گزرتا ہے گلی سے
آتی ہے در و بام سے، دیوار سے خوشبو
ملک نیپال میں تین ا ضلاع ایسے ہیں جہاں آسمان علم و حکمت کے ماہ و نجوم اور دبستان فکر و فن کے گلہائے خوش رنگ چمک ،دمک اور مہک رہے ہیں۔پھر ان میں سے دو ضلع ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کے دامن میں ایسا گاؤں ہے جو علم وفضل اور اسلامی ثقافت و تہذیب کے اعتبار سے دوسرے اضلاع کے بیشتر قریہ وقصبہ پر تفوق وبرتری رکھتاہے۔
(۱)ضلع دھنوشہ میں لوہنہ گاؤں(۲)ضلع مہوتری کا سسوا کٹیا جہاں سیماب صفت شخصیت حنیف ملت حضرت علامہ مولانا مفتی محمدحنیف علیہ الرحمہ کی ذات بابرکات تولد ہوئی جس کی برکتوں سے آج اس گاؤں میں حفاظ، قراء، علماء ، خطباء ، شعراء کی ایک لمبی فہرست ہے اور اسی بابرکت عبقری شخصیت کے فیضان نظر سے اس قریہ کو مدینۃ العلماء بننے کا شرف حاصل ہے۔
تذکرئہ لوہنہ
علم وفضل ، تہذیب و تمدن او ر اخلاق و کردار کے اعتبار سے لوہنہ کو نیپال کے دوسرے بلاد و قصبات اور گاؤں پر فوقیت و فضیلت حاصل ہے اور اسے پورے ملک میں ایک امتیازی شان و شوکت اوراہمیت و عظمت کا حامل ماناجاتاہے۔ یہ گاؤں شہر جنکپور سے تقریبا ساڑھے تین کلو میڑ دو ر ی پر واقع ہے،جو اس وقت شہر جنکپور کا ایک حصہ اور وارڈ شمار کیا جاتا ہے، جس کے بطن سے وقت کے ایک ایسے عالم باشرع ،شیخ ربانی نے جنم لیا جن کے لوائے قیادت و رہبری میں مسلمان جمع ہوکر اسلام اور پیغمبر اسلام سے متعارف ہوئے اور اسی قطب و قت کی نسبت سے اس گاؤں کے ساتھ اب ’’شریف ‘‘ کا لفظ جڑ گیا اور جب بھی عقیدت مند اس کا نام لیتے ہیں تو اد ب و ا حترام کے ساتھ لُہنہ شریف ہی سے یاد کرتے ہیں۔ لفظ شریف کا اس کے ساتھ جڑجانا اس کے ترقی یافتہ اور منبع اخلاق وپاکیزہ خصال ہونے کی دلیل ہے ؎
آل برکات کی برکتوں سے یہاں
بٹ رہا عشق کا جام لہنہ میں ہے
مارہرہ کے فیض کی ہوتی ہیں بارشیں
کتنا حسین لہنہ ہے شیر نیپال کا
اگر اس گاؤں کا جائزہ لیا جائے اور اہل دانش وخرد اور صاحبان فکر و نظر کی فہرست ترتیب دی جا ئے تو ایک لمبی فہرست ان حضرات کی ہوجائے گی جو دینی تعلیم اور اسلامی اخلاق سے بھی آراستہ ہیں او ر دنیا وی تعلیم اور سیاسی میدان کے ماہرین ہیں۔ اس گاؤں میں ایک سے ایک اہل علم وفن اور صاحبان دولت وثروت ہیں۔اسی گاؤں میں ایک متمول ،خوش اخلاق وخوش مزاج، صاحب کردار ،پاک طینت ونیک سیرت اور علم دوست جناب محمد جاسم صدیقی کا بھی نام ان نیک لوگوں کے زمرے میں آتا ہے جنہیں خلوص وفا ،ضیافت واکرام اور ایفائے عہد وامانت ،صبر وتوکل ،صدق مقالی وخوش خصالی اور ساتھ ہی دولت وثروت ، ریاست ومالداری، ظرافت و شرافت ، اخوت ومحبت اور باہمی تعاون کا جذبہ بیکراں جیسی خصلتیں اور خوبیاں آ باء و اجداد سے وراثت میں ملی ہیں۔ آپ کے برادران میں کوئی حافظ تو کوئی مولوی پیدا ہوئے اور سبھی نے دین اسلام کی خدمت و توسیع میںاہم رول اداکیا ہے۔ عالی جناب شیخ محمد جاسم صدیقی مرحوم کے آنگن میں جتنے پھول کھلے سب کے سب علم وہنر اور حسن اخلاق و ادب کے پیکر بن کر مہکتے رہے۔ کوئی ڈاکٹر تو کوئی انجینیر، کوئی پروفیسر ہے تو کوئی رازدار دین شریعت ۔آپ کی تمام اولاد میں سب سے زیادہ فضیلت وعظمت کا حامل وہ فرزند فرخندہ فال ہے جو آج افق شہرت و مقبولیت کا خورشید بنکر اپنی ضیاء سے ایک جہاں کو روشن و منور کرنے میں مصروف ہے۔اس طفل خجستہ آثار سے جہاں خانوادئہ جاسم، گاؤں، محلہ ا و ر شہر کی عزت و وقارمیں چار چاند لگے وہیںپورے ملک کے سرپر تاج رفعت وکرامت سج گیا اور باشندگان نیپال کا سر فخر سے اونچا ہو گیا۔چاہے وہ کسی طبقہ یا مذہب کا ماننے والا ہو ۔
حضور شیر نیپال حضرت علامہ مولانا حافظ وقاری مفتی الحاج الشاہ جیش محمد صدیقی برکاتی علیہ الرحمۃ کی شخصیت ملک ہندو نیپال میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے،آپ کو جو شہرت و عزت اللہ تعالیٰ نے عطا کی تھی وہ ملک نیپال میں کسی کو حاصل نہیں ۔آپ کی پوریزندگی بعد فراغت مسلک اعلی حضرت کی ترویج و اشاعت اور فروغ علم دین متین میں مصروف رہی۔ یقیناً جن لوگوں نے سرکار شیر نیپال علیہ الرحمہ کو قریب سے دیکھا ہے ،ان کی خلوت و جلوت کو مشاہدہ کیا ہے، آپ کے شب و روز کے معمولات زندگی اور عبادت و ریاضت اور تقویٰ و طہارت کو دیکھا ہے وہ ضرور اس صداقت و حقیقت کی گواہی دیں گے۔ بلا شبہ حضور شیرنیپال علیہ الرحمہ انبیائے کرام کے سچے وارث، پیارے نبی ﷺ کے سچے عاشق ،کتاب و سنت کے مبلغ، اپنے اسلاف کرام کے عکس جمیل ، خلوص للہیت کے پیکر اور صبرو استقامت کے وہ پہاڑ تھے جسے ہلانے کے لئے ایسی ایسی آندھی اور طوفان آئے کہ ایسا لگتا تھا کہ اب اس عظیم علمی پہاڑ کو اپنی سرعت و شدت کے جھونکوں سے جڑ سے اکھاڑدیں گے مگر اس عظیم و مضبوط پہاڑ کے سامنے آندھی اور طوفان نے اپنی بے بسی ،شکست و ہزیمت کی سیاہی اپنی پیشانی پر لئے نیست و نابود ہوگئے مگر علم و ہنر اور صبر و استقامت کا پہاڑ اپنی جگہ کھڑا رہا۔
مہرباں سیکڑوں نہروں پہ سمندر تنہا
اپنے اوصاف میں تھا مست قلندر تنہا
نام بھی جیشِ محمّد تھا، عدو پر تھے عذاب
اور نظر آتے تھے میدان میں لشکرتنہا
ان کی ہر سانس تھی مسلک کی محافظ ثاقب
حملہ آور تھے وہ اغیار پہ ڈَٹ کر تنہا
( مولانا ثاقب القادری مصباحی،بنارس)
ولادت با سعادت، نام و القاب:
اس گل بے خار نے گلشن جاسم کو اپنی ایسی بے نظیر خوشبو سے ۲۸ ؍ صفرالمظفر۱۳۶۲ھ شب جمعہ مبارکہ مطابق ۵؍ مارچ ۱۹۴۳ء میں مہکایا کہ اس گل خنداں کی مہک دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گئی ۔ اس کا نام والدین نے محمدجیش اور پیر و مرشد نے جیش محمد رکھاجو آگے چل کر اپنی خدمات جلیلہ اور مساعی بلیغہ جمیلہ کے سبب شیر نیپال ، فاتح نیپال ،قاضی القضاۃ،شیر رضا،فقیہ اسلام وغیرہا القاب وآداب سے مشہور ہوئے ۔ جس کی صلابت فکر ، اصابت رائے ،حسن عمل ،بلندی کردار ،صلاحیت وقابلیت ،دقت نظر ،فقہی بصیرت ،تبحر علمی کی طوطی ہند ونیپال میں بول رہی ہے۔
یہی شیر نیپال جو فرید زمانہ،وحید یگانہ،یکتائے روزگار ،منبع انوار ،مطلع اسرار ،مرکز علم وعرفان ، فقیہ عصر اور محقق دہر عالم باعمل ،صوفی باکمال اور محدث عظیم تھے، جن کا سینہ محبت رسول کریم کا مدینہ اور جذبہ اطاعت رسول کا گنجینہ تھا اور اسی فنافی الرسول اور عشق نبی کی دولت سرمدی کے طفیل خدائے قادر وقیوم نے آپ کو مینارئہ عظمت ورفعت بنایا ۔اور یہ ناقابل انکا رحقیقت ہے کہ جو خود کو عشق سرکار دوعالم ﷺ میں فنا کردیتاہے وہی مہبط انوار وتجلیات الٰہی اور انعام یافتہ بارگاہ رسالت مآب ہوتاہے ؎
مرد کامل بن گیا محبوب یزداں ہو گیا
جو مٹا راہ خدا میں شاہ دوراں ہو گیا
جب فروزاں آفتاب چرخ عرفاں ہو گیا
گل چراغ فتنہء باطل پرستاں ہو گیا
تعلیم و فراغت اور اساتذہ:
آپ کے اساتذہ میں وقت کی مایہ ناز شخصیات ،نباض قوم وملت ،محدث و فقیہ ، مفسر ومحقق ، فلسفی ومنطقی ، صاحبان فصاحت وبلاغت اور مفکرین اسلام ہیں جن سے جی کھول کر علم و عرفان کاجام و سبو نوش کر کے علمی تشنگی د و ر کر تے ر ہے ا و ر ا ن مخلصین اساتذ ہ نے بھی آپ کے سا تھ علمی جود و نو ال میں کو ئی کمی نہ چھو ڑ ی ۔ حضو ر حا فظ ملت شا ہ عبد ا لعز یز مبارکپوری ، علا مہ عبد الرؤ ف بلیاو ی ، بحر العلوم مفتی ا فصل حسین مو نگیر ی ، بحر ا لعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی،حضرت علامہ سید عارف حسین رضوی، علامہ کاظم علی بستوی اور علامہ قاری مفتی محمد ظہیرالدین رضوی و غیرہم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
جس تعلیمی و تر بیتی سفر کا آغاز محلہ کے مکتب سے شروع ہوا تھا وہ ۱۰؍ شعبان المعظم ۱۳۸۷ ھ مطابق ۲۴؍نومبر ۱۹۶۶ء میں ازہر ہند دبستان علم وفن جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں منتہی ہوا۔
جامعہ اشرفیہ کا یہ پہلا دور تھاجس میں فضیلت کی دستار بندی ہوئی اور سب سے پہلے لشکر اسلام کا قافلہ تیار ہوا ، اسی اول دستہ میں حضور شیر نیپال کی ذات گرامی باوقار بھی ہے۔دستار بندی کے بعد سجدئہ شکر اداکیا اور بچشم نم اپنے وطن عزیز کا رخ کیا ۔دین کی خدمت و توسیع اور مسلک اہل سنت مسلک اعلیٰ حضرت کی ترو یج و ا شاعت کے واسطے حضور حافظ ملت نے آپ کو روانہ فرمایاتاکہ کفرستان میں اسلام کا چراغ روشن کیا جائے جس کی روشنی میں چل کر مسلمانان نیپال اپنی عقل وفکر کا زاویہ بدلیں اور اسلامی تعلیمات کو سینے سے لگاکر مراسم کفریہ اور معتقدات باطلہ کا جنازہ نکالاجاسکے ، اسلام کا بول بالا ہو اور حق کا غلغلہ ہو ۔
بوقت دستاربندی حضورحافظ ملت نے فرمایا ’’آپ مقدمۃ الجیش ہیں پہلے آپ آئیں‘‘ ۔ ا و ر بوقت رخصت یوں گویا ہوئے’’میں آپ کو تنہا لشکر اسلام بناکر بھیج رہاہوں‘‘۔
اور جب ۱۳۹۴ھ کے سہ روزہ ’’سرکار مدینہ کا نفر نس‘‘ میں حضو ر شیرنیپال کی دعوت پر صدر کانفرنس کی حیثیت سے حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ تشریف فرماہوئے توفرحت و انبساط میں جھومتے ہوئے ا ور اپنے مشن کی کامیابی کو اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرماکر حضرت مفتی عبدالواجد سے مخاطب ہوکر فرمایا:
’’مولانا جیش محمد صدیقی ایک قابل عالم دین ہیں ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں مجھے امید ہے کہ اس علاقہ میں ان کے ذریعہ سنیت کی تبلغ واشاعت ہوگی‘‘۔
حضور حافظ ملت کو آپ پر ہر اعتبار سے اتنا اعتماد و وثوق تھا کہ جب ایک بار مدھوبنی سے کچھ لوگ وہابیوں کی سرکشی و تمرد کی سرتابی کے لئے اور بد عقیدوں کو دنداں شکن جواب دینے کے لئے ایک مناظر مانگنے کے لئے مبارکپور آپ کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے فرمایا ـ’’نیپال میں تنہا مفتی جیش محمد صدیقی ایسا مناظر ہیں جو اس کام کے لئے زیادہ موزوں ہیں ،آپ ان کے پاس جائے اور میرا حوالہ دیجئے وہ اس کام کو انجام دینے کے لئے جائیں گے اور وہابیوں سے مقابلہ کرکے انہیں شکست دیں گے‘‘۔
تدریسی خدمات
فراغت کے بعد ایک سال مادر علمی دارالعلوم علیمیہ ضلع سیتا مڑھی ( بہار) جہاں سے تیسرے تعلیمی سفر کا آغاز فرمایاتھا ، اراکین مدرسہ اور استاذمعظم حضرت مولانا محمد کاظم علی بستوی کے ارشاد پر مدرس منتخب ہوئے ۔ جامعہ اشرفیہ سے فراغت کے بعد سب سے پہلے آپ نے تدریسی خدمات کا آغاز اپنے مادر علمی مدرسہ علیمیہ دامودر پور مظفر پورسے کیا۔ایک سال تک یہاں تدریسی خدمات انجام دی۔جب تعطیل کلاں میں اپنے گاؤں لہنہ پہنچے تو جنکپور والوں نے وفد کی شکل میں آکر جنکپور رہنے کے لئے اصرار کیا تو انکی درخواست کو منظور کرتے ہوئے 23/ شعبان المعظم 1387ھ بروز پنجشنبہ بوقت مغرب آپ جنکپور پہنچ گئے۔اس وقت جنکپور میں کوئی دارالعلوم نہیں تھابس ایک مکتب تھا ۔ اس شہر میں ایک مرکزی مدرسہ قائم کرنے کا ارادہ زمانہ طالب علمی ہی سے تھا اس لئے حامی بھرلی ا و ر تن و جان اور پورے خلوص و للہیت کے ساتھ دینی و قومی اور تعلیمی خدمات میں مصروف ہوگئے۔ آپ نے رات و دن جد و جہد کرکے مکتب کے بغل میں ہی دارالعلوم قائم کیا جو ہندو نیپال میں جامعہ حنفیہ غوثیہ سے مشہور و معروف ہے ۔اس ادارہ سے ہزاروں علما،حفاظ ، مفتیان کرام پیدا ہوئے جو آج ملک و بیرون ملک دینی ملی سماجی اور مسلکی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اس تعلیمی قلعہ کا یہ نام مرشد اجازت حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ نے تجویز فرمایا۔ آج آپ کی شب و روز کی انتھک کوششوں ا و ر محنتوں کی بدولت جامعہ خوبصورت عالی شان عمارتوں پر مشتمل ہے ۔پہلی عمارت جو کہ دومنزلہ تھی ہر منزل تین بڑے کمروں پر مشتمل تھی،جسے آپ کے جامعہ حنفیہ سے چلے جانے بلکہ آپ کے وصال کے بعد منہدم کرکے ایک نئی عمارت بنائی گئی۔دوسری عمارت جو مغربی جانب ہے سہ منزلہ ہے، ہر منزل میںایک وسیع و عریض ہال ہے جس میں تقریبا ساٹھ ستر بچے بآسانی سما سکتے ہیں اور ہرایک کے دونوں بازو میں دو کمرے ہیں۔ پہلی عمارت کے سامنے صحن جامعہ سے متصل لب سڑک عظیم الشان تین منزلہ مسجد حنفیہ ہے۔آپ جس حجرہ میں قیام فرماتے اور اس کے برآمدہ پر کتابوں کا درس دیتے اور ملاقاتیوں سے ملاقات کرتے اس کے بالمواجہ تین منزلہ دارالحدیث کی تعمیر بھی مکمل ہوچکی ہے ۔بغل کی زمین خرید کر اس کے بعض حصہ میں مطبخ تعمیر کیا گیا ہے اور کچھ حصہ ابھی خالی ہے۔(صحن جامعہ میں حوض کے سامنے جانب جنوب برائے نام ایک اسکول بھی ہے جونیپال و جاپان گورنمنٹ کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔) مسجد کے جانب شمال سابق مکتب ہے جو دیوا روں کے خستہ اور بوسیدہ ہوجانے کی وجہ سے ا ز سر نو دو منزلہ عمارت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس میں محلہ کے طلبہ وطالبات کی تعلیم وتربیت کا انتظام ہے۔
یہ حضور شیرنیپال کے کارنامے ا ور خدمات کا ایک عظیم رخ ہے۔جہاںمسجد کی پہلی چھت ڈھالنے پر پابندی تھی،جہاں اذان تودرکنار مائک سے تقریر کرنے پر بھی پابندی تھی آج وہاں آپ کی مجاہدانہ جدوجہد کے سبب تین منزلہ مسجد لوگوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہے جس میں پانچوں وقت کی اذان مائک سے ہورہی ہے ۔
۱۳۹۴ ھ ، مطابق ۱۹۷۴ ء، ۲۰۳۱ بکرمی میں جب کاٹھمانڈوشاہی کشمیر ی مسجد کے منتظمین کے اصرار پیہم پر امام مقرر ہوئے اور چند ماہ تک یہاں امامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔پھر ذوقعدہ ۱۳۹۵ ھ،مطابق نومبر ۱۹۷۵ء،کارتک ۲۰۳۲ بکرمی میں کاٹھمانڈو شاہی کشمیری مسجد کی امامت سے بخوشی بر طرف ہو کر جنکپور میں آپ کا ورود ثانی ہوا جہاں آپ جیسے عظیم قائد کا بے صبری سے ہر خاص و عام انتظار کر رہاتھا۔
بیعت و خلافت:
۳۹۰۱ھ، مطابق ۱۹۷۰ء ،۲۰۲۶ بکرمی میں حضور سیدالعلماء علیہ الرحمہ کے مقدس ہاتھو ں پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔اور۱۳۹۴ھ، مطابق ۱۹۷۴ء ۲۰۳۰ بکرمی میں حضور سیدالعلماء نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی ۔
حج و عمرہ: ۱۴۱۳ھ،مطابق ۱۹۹۳ء،۲۰۵۰ بکرمی میں پہلا حج وعمرہ سے مشرف ہوئے۔آپ نے پوری زندگی میں ایک حج اور سات عمرہ کئے۔
دعوت و تبلیغ:
ملک نیپال میں علم دین کی شمع جلانے کے لئےآپ کے استاذ محترم حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے آپ کا انتخاب فرمایا اور طریقت و معرفت کی دیپ جلانے اور تصوف کا جام پلانے کے لئے حضور سید العلماء علیہ الرحمہ نے چنا۔ ان بزرگان دین کے علمی و روحانی وراثتوں کے جانشین و امین حضور شیرنیپال علیہ الرحمہ نے پوری مستعدی اور تندہی کے ساتھ ان کے مشن اور دینی مقاصد کی اشاعت و تشہیر و توسیع میں شب روز اپنی زندگی کے آخری ایام تک مصروف رہے۔اور دین متین کی دعوت و تبلیغ اور مسلک اعلیٰ حضرت اشاعت و توسیع میں ایک دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔
آپ نے خدمت دین متین اور مسلک اعلیٰ حضرت کی ترویج و اشاعت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا یا۔ آپ کو اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ اور لکھنے کا انداز بھی غضب کا تھا ۔ فتاویٰ برکات کو قرآن و احادیث ، فقہی جزئیات اور اقوال صالحہ سے ایسا مزین فرمایا ہے کہ دیکھنے سے امام اعظم ابوحنیفہ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ رد وہابیہ میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کی طرز نگارش پر زمانہ قربان ہے۔ متعدد کتابیں آپ نے تصنیف کی ہیں جن میں فتاویٰ برکات دس جلدوں میں ہے،آٹھ حصے چھپ چکے ہیں نواں حصہ پربھی مکمل کام کرکے نائب حضور شیرنیپال دامت برکاتہم القدسیہ کے حوالے کردیا گیا جبکہ دسواں حصہ پر ابھی کام باقی ہے۔میدان مناظرہ کے بھی آپ شہسوار تھے اور کئی مناظرہ بھی کر چکے ہیں۔آپ نے تحریر و تقریر کے ذریعہ ملک نیپال اور ہندوستان کے مختلف مقامات پر قابل قدر و فخر خدمات انجام دی ہیں،علما کا جو قافلہ تیار کرکے ملک کے اطراف میں ترائی سے لے کر پہاڑ کی وایوں اور گھاٹیوں تک پھیلا کر دین کی اشاعت اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کا جو فریضہ انجام دیا ہے اسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا اور انصاف پسند اور حقیقت بیں آپ کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کرتے رہیں گے۔
مقبولیت:
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو قبولیت فی الارض کا مقام و مرتبہ عطا فرمایا تھا،عباقر علما و مشائخ کے نزدیک معتبر و مستند تھے اور قدر و احترام کی نگاہوں سے جاتے تھے۔ آپ کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ جس راستے سے آپ کا گذر ہوجائے ،جس علاقہ میں آپ تشریف لے جاتے وہاں عقیدت مندوں کا ہجوم ہوجاتا ، لو گ جو ق در جوق آپ کی زیارت کرنے کے لئے پہنچ جاتے۔
حضور شیرنیپال علیہ الرحمہ کی اہل علم اور ارباب دانش کے مابین مقبولیت ہی کہئے کہ جب آپ کا وصال ہوا تو عوام کو بھی رنج و غم ہوا اور ہل علم و دانش بھی آپ کے وصال پر بیح رنجیدہ و غمگین ہوئے ، ہر ایک کو آپ کی رحلت پر بیحدقلق و افسوس ہوا اور سبھوں نے آپ کی رحلت کو ملت اسلامیہ کے لئے عظیم نقصان اور ناقابل تلافی خسارہ محسوس کیا ۔ یہی وجہ کہ ملک و بیرون ملک کے جامعات و خانقاہوںسے تعزیت نامہ موصول ہوئے جن میں جہاں آپ کے انتقال پرملال پر افسوس کا اظہار ہے وہیں آپ کی بارگاہ میں خراج عقیدت بھی اور آپ کی شخصیت و عظیم المرتبت ہستی کا اعتراف بھی، جو آج بھی ان تعزیت ناموں میں دیکھا جا سکتا ہے اور پڑھا جاسکتا ہے۔
حضور شیرنیپال علیہ الرحمہ سے آپ کے پیرو مرشد ،آپ کے اساتذہ اور وقت کے بڑے بڑے اہل علم و دانش بیحد محبت فرمایا کرتے تھے اور آپ کی موجودگی کو اہل اسلام کے لئے ایک عظیم نعمت تصور فرماتے تھے۔قائد اہل سنت علامہ ارشد القادری،حضور بحرالعلوم علامہ مفتی عبد المنان اعظمی،مفکر اسلام علامفہ مفتی عبد المبین نعمانی چریا کوٹ،خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی جامعہ اشرفیہ مبارکپور،سید ملت حضور نظمی میاں ،مارہرہ شریف ،امین ملت حضور امین میاں مارہرہ شریف ،محدث جلیل علامہ سید عارف میاں بریلی شریف،تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان بریلی شریف،شیر بہار علامہ مفتی محمد اسلم رضوی مظفر پور ،شمس الاولیاحضرت علامہ مفتی محمد شمس الحق باڑا لہوریابہار،مفتی اعظم مہاراشٹر علامہ مفتی محمد اشرف رضا قادری،قائد ملت حضرت حافظ سعید حسین نوری بمبئی،صدر العلما علامہ تحسین رضا بریلی شریف،نبیرہ اعلیٰ حضرت حضرت منانی میاں و سمنانی میاں بریلی شریف ،جمال ملت حضرت علامہ جمال میاں بریلی شریف ، حضرت سید شاہ گلزار اسمعیل واسطی قادری رزاقی مسولی شریف،مفتی اعظم کیرالا حضرت شیخ ابو بکر ملیباری کیرالا،محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفی قادری گھوسی،اشرف العلما حضرت علامہ مفتی محمد اشرف القادری نینہی شریف ، مفتی اعظم ہالینڈ علامہ مفتی عبد الواجد قادری دربھنگہ وغیرہم علما ء و مشائخ کرام آپ سے بیحد محبت فرماتے تھے اور آپ کی علمی خدمات و شخصیت سے کافی متاثر و مسرور تھے۔
وفات حسرت آیات :
حرمین شریفین کی زیارت سے واپسی پر ناسک میں آپ کی طبیعت سخت علیل ہو گئی ، ممبئی کے لیلا وتی ہاسپیٹل میں آپ کو ایڈمٹ کیا گیا مگر کئی روز تک مسلسل علاج کے باوجود کچھ افاقہ نہیں ہوا تو ڈاکٹروں کے مشورہ سے آپ کو آپ کے وطن ملک نیپال بذریعہ ایمبولینس لایا جانے لگا، ابھی راستے ہی میں تھے کہ لکھنو کے آس پاس رات ساڑھے گیارہ بجے حالت مسافرت ہی میں 28 ربیع النور شریف 1441ھ مطابق 26 نومبر 2019 ء رات ساڑھے گیارہ بجے وصال پر ملال ہو گیا۔اور یہ کہتے ہوئے آپ دنیائے فانی سے دار بقا کی طرف چلد ئے کہ ؎
کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
جنازہ: آپ کی نماز جناز ہ 27 نومبر بروز بدھد بعد ظہر خانقاہ برکات لہنہ شریف میں ادا کی گئی ، جنازہ آپ کے بڑے صاحبزادے اور خلیفہ و جانشین حضرت مولانا محمد ضیاء المصطفیٰ از بری برکاتی صاحب قبلہ نے پڑھائی اور آپ کی قائم کردہ خانقاہ برکات کے احاطہ میں جانب مشرق میں آپ کے جسد مبارک کو دفن کیا گیا۔ مقامی میڈیارپورٹ کے مطابق سات لاکھ عقیدت مندوں نے آپ کی نماز جنازہ میں شرکت کی تھی ، جدھر دیکھیں انسان ہی انسان نظر آرہا تھا، بتایا جاتا ہے کہ نیپال کی تاریخ میں اتنا مجمع کسی جنازہ میں دیکھا نہیں گیا۔
مخالفین کی شرارت:
آپ کے وصال کے موقع پر بلکہ جب آپ ہاسپیٹل میں ایڈمٹ تھے اور پوری دنیائے سنیت آپ کی صحت و تندرستی کی بحالی اور شفایابی کے لئے دعائیں کر رہے تھے اسی وقت مخالفین خائبین جشن منارہے تھے اور آپ کے جنازہ میں روکنے کی کوشش کرکے اپنی بدنامی کا سامان فراہم کر رہے تھے۔پرچہ بازیاں بھی کی ،اعلانات بھی کئے اور بہکانے کے لئے ہر چال بچھانے کی سعی لاحاصل کی ۔مگر عقیدت مندوں اور انصاف پسند وں نے اس کثرت کے ساتھ جنازہ میں شرکت کی کہ مخالفین حاسدین کی عقلیں دنگ رہ گئیں،افکار معطل ہوگئیں،زبانیں گنگ ہوگئیں اور چہرے بے رونق ہوگئے۔
جلنے والے جلیں مقدر تمہارا جلنا ہے
کر گیا تاریخ رقم جنازہ جیش ملت کا
بعد غسل کفن جب پڑی رخ پہ میری نظر
مثل قمر چمک رہا تھا چہرہ جیش ملت کا
بیس رکعت تراویح کا ثبوت از:ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی،تاراپٹی(نیپال) مقیم حال:دوحہ قطر بسم اللہ…
شعبان کی فضیلت واہمیت: اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان المعظم ہے جو رحمت وبخشش…
This website uses cookies.