مصطفیٰ کی عطا، شیرِ احمد رضا
حضرتِ جیشِ ملت پہ لاکھوں سلام
حضور شیرِ نیپال حضرت علامہ مفتی جیش محمد صدیقی برکاتی علیہ الرحمہ جماعتِ اہلِ سنت کے اُن ممتاز اکابر و مشائخ میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی اشاعتِ اسلام، مسلکِ اعلیٰ حضرت کی ترویج و تحفظ اور ملتِ اسلامیہ کے ایمان و عقیدے کی پاسبانی کے لیے وقف کر دی تھی۔ علم و عمل، اخلاص و استقامت اور دینی بصیرت سے آراستہ آپ کی شخصیت نیپال کے مسلمانوں کے لیے ایک عظیم علمی و روحانی سرمایہ تھی۔ آپ نے اپنی مخلصانہ جدوجہد کے ذریعے دین و سنیت کے فروغ، نسلِ نو کی دینی تربیت اور مسلمانوں کے مسلکی تشخص کی حفاظت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کی ذات اہلِ سنت کے لیے مرجعِ اعتماد، طالبانِ علم کے لیے سرچشمۂ رہنمائی اور عوامِ مسلمین کے لیے حوصلے و اعتماد کا مظہر تھی۔ آپ کی علمی و روحانی قیادت نے نیپال کی دینی فضا کو وقار بخشا اور مسلمانوں میں اپنے دینی تشخص کے تحفظ کا شعور بیدار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے وصال سے نیپال کی ملتِ اسلامیہ ایک ایسی قدآور شخصیت سے محروم ہوئی جس کا خلا آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔
اگرچہ آپ کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے سات برس گزر چکے ہیں، لیکن آپ کی علمی و دینی خدمات اور یادگار کارنامے آج بھی آپ کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ علم و فضل کی حیات کا حقیقی تسلسل ان کے افکار، کردار اور ان نقوش میں پوشیدہ ہوتا ہے جو وہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں اور حضور شیرِ نیپال علیہ الرحمہ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔
اب جبکہ آپ کا عرسِ مبارک قریب آ رہا ہے، میرے دل میں یادِ مرشد کی ایک عجیب اور ناقابلِ بیان کیفیت موج زن ہے۔ جوں جوں عرس کے ایام قریب ہوتے جا رہے ہیں، دل کی بے قراری بڑھتی جا رہی ہے، دھڑکنوں میں ایک اضطراب سا پیدا ہو رہا ہے اور ماضی کی وہ مبارک ساعتیں نگاہِ تصور میں گردش کرنے لگی ہیں جن کی یاد آج بھی میرے لیے سرمایۂ حیات اور متاعِ قلب و جاں ہے۔ آپ کی زیارت، آپ کی پُرنور صحبت، چہرۂ انور کی دل آویز تابانی اور شخصیت کی شفقت آمیز دل نشینی کا تصور دل کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ انسان چند لمحوں کے لیے زمانۂ حال سے بے نیاز ہو کر یادوں کی اُس دنیا میں جا پہنچتا ہے، جہاں ہر منظر آپ کی محبت کی خوشبو سے معطر اور ہر یاد عقیدت کے نور سے منور محسوس ہوتی ہے۔
اس فقیر کے لئے آپ کی یاد کو تازہ رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ آپ کی تصانیف، علمی مضامین اور فتاویٰ کا مطالعہ بھی ہے ۔ جب کبھی آپ کی کتاب کھولتا ہوں، کوئی مضمون پڑھتا ہوں یا کسی فتوے میں آپ کے علم و فقاہت اور قوتِ استدلال کا مطالعہ کرتا ہوں تو دل میں آپ کی علمی عظمت کا احساس تازہ ہو جاتا ہے۔ ہر تحریر آپ کی شخصیت کے کسی نہ کسی روشن پہلو سے روشناس کراتی ہے، کہیں آپ کی علمی بصیرت متاثر کرتی ہے، کہیں حق گوئی و بے باکی دل کو گرما دیتی ہے اور کہیں دین و سنیت کے لیے آپ کی درد مندی اور جاں سوزی کا نقش ابھر آتا ہے۔ اور پھر ہر ہفتے نمازِ جمعہ کے بعد آپ کا شجرۂ شریف پڑھنے کا معمول ہے، جو میرے دل کی دنیا میں ایک الگ ہی مقام رکھتا ہے۔ جب شجرۂ مبارک کا ورد شروع کرتا ہوں اور نسبتوں کا یہ روح پرور سلسلہ زبان پر جاری ہوتا ہے تو دل کی کیفیت بدلنے لگتی ہے۔ آپ کی نسبت کا خیال آتے ہی عقیدت کے جذبات تازہ ہو جاتے ہیں، کبھی دل سرشار ہوتا ہے اور کبھی آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے۔
جب کھلی آنکھ سے آئے نہ نظر وہ یارو
بند آنکھوں سے ہی دلدار کے جلوے دیکھو
واقعی اب ظاہری نگاہیں آپ کے دیدار سے محروم ہیں، مگر آپ کی یاد میرے دل میں زندہ ہے، آپ کی تحریریں آپ کے علمی مقام کی گواہی دیتی ہیں اور آپ کی خدمات کے نقوش آپ کے مشن کی عظمت کو آشکار کرتے ہیں۔ آپ کی ذات سے وابستہ یہ یادیں میرے لیے ماضی کا سرمایہ ہونے کے ساتھ اپنے دینی و روحانی تعلق کو تازہ رکھنے کا ذریعہ بھی ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور شیرِ نیپال علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبرِ انور کو نور و رحمت سے معمور رکھے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
گدائے مرشد
ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی
تاراپٹی ،دھنوشا(نیپال)
24/10/2026
جدید ذرائع ابلاغ سےچاند کا ثبوت مع ٹائٹلجدید ذرائع ابلاغ سےچاند کا ثبوت مع ٹائٹل
بیس رکعت تراویح کا ثبوت از:ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی،تاراپٹی(نیپال) مقیم حال:دوحہ قطر بسم اللہ…
This website uses cookies.