نیپال میں بڑھتی قادیانیت اور اس کاسدباب

نیپال میں بڑھتی قادیانیت اور اس کاسدباب
از قلم:ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی عفی عنہ
اسلام کے نام پر بہت سے فرقے جنم لے کر کلمہ خواں مسلمانوں کے ایمان و عقیدے پر شبخوں مارتے رہے ہیں،اپنی میٹھی باتوں سے بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے دام مکر و فریب میں پھانس کر انہیں سواد اعظم کے مسلک سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے رہے اور علاقہ کے علاقہ ان کی سازشوں کا شکار ہوکر گمراہی اور جہنم کی راہ پر چل کر تباہ و برباد ہوگئے۔جن باطل فرقوں نے اسلام و مسلمان کو نقصان پہنچایا، اسلام کی شبیہ کو بگاڑنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کے متفقہ و متحدہ عقائد و نظریات پر حملہ کرکے مسلمانوں کو نقصان و تکلیف پہنچا رہے ہیں ان میں سے ایک فرقہ قادیانیت بھی ہے ، جس کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔انگریزوں کی شہ پر اور ان کی مالی سپورٹ سے دنیا بھر میں اپنی جال پھیلا رکھی ہے۔ پاکستان و ہند میں خاصی تعداد میں قادیانیت کے کلمہ گو موجود ہیں، آئے دن ناموس رسالت پر حملہ کرتے رہتے ہیں اور مسلمانوں میں افتراق و انتشار کی بیج بوتے ہیں۔علمائے حق ان کا مقابلہ اور رد کرکے انہیں بے نقاب کرتے رہتے ہیں اور ناموس رسالت کا پہرہ دے کر غلامی رسول کا ثبوت پیش کرتے رہتے ہیں۔
ان کے عقائد باطلہ و کفریہ سے چند ایک کا ذکر حضور شیرنیپال علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب فتاویٰ برکات حصہ سوم میں کیا ہے تاکہ مسلمان ان کے ان گندے اور کفریہ عقائد سے مطلع ہوکر اپنے ایمان و عقیدے کو بچائیں اور ان کے دام مکر و فریب اور فتنہ و شرسے خود کو محفوظ رکھیں۔علماء و ائمہ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اپنے حلقہ و علاقہ میں قادیانی کے ان عقائد باطلہ اور ان کے شرعی احکام سے مناسب طریقہ پر آگاہ کریں اور ان کے ایمان کی حفاظت کے لئے سعی بلیغ کریں۔نیپالی زبان میں دلائل قاطعہ کی روشنی میں ان کے باطل عقائد کا رد میں رسالہ ترتیب دے کر طبع کروائیں اور اسکول و کالجز کے طلبہ اور دفاتر کے ملازمین کو بطور ہدیہ پیش کیا جائے اور قادیانیت کے رد میں ذہن سازی کرکے امت مسلمہ کے ایمان و ایقان کے تحفظ کا فریضہ انجام دیں۔
جہاں دنیا کے دوسرے ممالک میں قادیانیت بڑی تیزی سے پھیل رہی وہیں ملک نیپال میں بھی قادیانیت مختلف حربوں اور ہتھکنڈوں کو اپناکر اپنا جال پھیلا رہی ہے ،کاٹھمانڈو میں اس فرقہ کا دفتر بھی ہے اور نیپال کے دوسرے علاقوں میں بھی اپنی چالاکی سے پیر پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔دفتر میں کام کرنے والے ملازمین،اسکول و کالجز کے اسٹوڈنٹس اور معاشرہ کے غریب و لاچار افرادکی مالی مدد اور نوکری دلواکر اپنے مشن کو فروغ دے رہے ہیں۔یاد رہے اس فرقہ کا عقیدہ و نظریہ اسلامی عقائد ونظریات کے متصادم ہے ،اس فرقہ کے بانی نے ختم نبوت پر حملہ کیا،نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور بہت سے عقائد گڑھ لئے جو اسلامی نقطہ نظر کے خلاف ہیں اور ان عقائد باطلہ کو اپنانے والا بھی دائرہ اسلام سے نکل کر اہل نار کے زمرہ میں داخل ہوجاتا ہے۔قادیانیت فرقہ ہائے باطلہ کی وہ شاخ ہے جس نے عقائد اسلامی فصیل میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی ہے اور شان رسالت میں توہین کی جرأت کی ہے۔ اس کے گمراہ کن اور ایمان سوز عقیدوں سے حضرت شیرنیپال علیہ الرحمہ پردہ ہٹاتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:
انہیں طائفہ خبیثہ کی پیداوار فرقۂ قادیانیہ ملعونہ ہے۔ نانوتوی نے دروازئہ نبوت کھولااور مرزا غلام احمدقادیانی اپنی جھوٹی نبوت کادعویٰ کربیٹھا۔مرزا نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ طرح طرح کے خرافات، لغویات، کفریات بکنے لگا، انبیائے کرا علیہم السلام کی شان پاک میں بالخصوص حضرت عیسیٰ روح اللہ وکلمۃ اللہ علیہ صلاۃ اللہ اور انکی والدہ ماجدہ عفیفہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کی شان جلیل میں نہایت بے باکی کے ساتھ گستاخیاں کرنے لگا۔ مرزاکامدعی نبوت بننا ہی اس کے کافر واکفر ہونے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنے کے لیے کافی تھا۔ ایسے شخص کے کافر ومرتد ہونے میں کسی مسلمان کوہرگز شک نہیں ہوسکتا۔ اس کی کتاب میں فضولیات ولغویات کے انبار ہیں۔ اس شخص کے کفریات وہفوات بے شمار ہیں۔ بطورنمونہ اس کے اقوال بدترازابوال اسی کی کتابوں سے ذکر کردئے جاتے ہیں۔
(۱)ازالۂ اوہام ص:۵۳۳ میں لکھا:خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کانام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔
(۲)انجام آتھم ص:۵۲ میں لکھا:اے احمد تیرا نام پورا ہوجائے گا قبل اس کے جو میرا نام پورا ہو۔
(۳)ص:۵۵میں لکھا:تجھے خوش خبری ہو،اے احمد!تومیری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔
(۴) توضیح مرام طبع ثانی ص:۹پر لکھتا ہے کہ:
میں محدث ہوں اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہوتاہے۔
(۵)دافع البلامطبوعہ ریاض ہندی ص:۹پر لکھتا ہے:
سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنارسول بھیجا۔
(۶)ایک غلطی کاازالہ ص:۶۷۳پر لکھتا ہے: میں احمدہوں جو آیت مبشراً برسولٍ یاتی من بعدی اسمہ احمد میں مراد ہے۔
(۷)انجام ص:۷۸میں کہتاہے:وماارسلنٰک الارحمۃ للعٰلمین۔تجھ کو تمام جہاں کی رحمت کے واسطے روانہ کیا۔
(۸)دافع البلاص:۶میں ہے:
مجھ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :انت منی بمنزلۃ اولادی وانت منی وانامنک۔یعنی اے غلام احمد! تو میری اولاد کی جگہ ہے تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔
(۹)ازالۂ اوہام ص:۶۸۸میں ہے: حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے الہام ووحی غلط نکلی تھیں۔
(۱۰)ا ور ص:۸میں ہے:    حضرت موسیٰ کی پیشینگوئیاں بھی اس صورت پر ظہور پزیر نہیں ہوئیں جس صورت پر حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امید باندھی تھیں۔ غایت مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیشینگوئیاں زیادہ غلط نکلیں۔
(۱۱)ازالۂ اوہام:ص:۵۵۳میں لکھتاہے: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چار پرندے کے معجزے کاذکر جوقرآن شریف میں ہے وہ بھی ان کا مسمریزم کاعمل تھا۔
(۱۲)اسی کے ص:۲۶وص:۲۸میں لکھتاہے: قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں۔
(۱۳)اور ص:۵۳۳میں لکھتا ہے :براہین احمدیہ خدا کا کلام ہے۔
(۱۴)اربعین ص:۲،ص۱۳پر لکھا:کامل مہتدی نہ موسیٰ تھانہ عیسیٰ
(۱۵)اور معیارص:۱۳پر ہے: اے عیسائی مشنریو!اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھوکہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔
(۱۶)ص:۱۳وص:۱۴میں ہے: خدا نے اس امت میں سے مسیح موعودبھیجاجواس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کرہے۔
(۱۷) کشتی ص:۱۳میںہے :مثیل موسیٰ موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم ابن مریم سے بڑھ کر۔
(۱۸)نیز ص:۱۶میں ہے :خدا نے مجھے خبردی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے۔
(۱۹) دافع البلاص:۲۰:اب خدا بتلاتاہے کہ دیکھومیں اس کاثانی پیدا کروں گاجو اس سے بھی بہترہے جو غلام احمدہے یعنی احمد کاغلام۔ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو…اس سے بہتر غلام احمد ہے۔
(۲۰)انجام آتھم ص:۴۱میں لکھتاہے:مریم کابیٹا کشلیاکے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔
(۲۱)کشتی ص:۵۶میں ہے :مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتاتووہ کلام جو میں کرسکتاہوںوہ ہرگزنہ کرسکتااور وہ شان جو مجھ سے ظاہرہورہے ہیں وہ ہرگزدکھلانہ سکتا۔
(۲۲)اعزاز احمدی ص:۱۴میں ہے :    عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں مگریہاں ان کی نبوت بھی ثابت نہیں۔
(۲۳) اسی کتاب کے ص:۲۴پر لکھا کہ: کبھی آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔
مسلمانو! تمہیں معلوم ہے کہ شیطانی الہام کس کو ہوتا ہے ؟قرآن فرماتا ہے :تنزل علیٰ کل افاکٍ اثیمٍ۔بڑے بہتان والے سخت گنہگار پر شیطان اترتے ہیں ۔
(۲۴)اسی صفحہ میں لکھا:ان کی پیشین گوئیاں غلطی سے پر ہیں۔
(۲۵)ص:۱۴پر لکھتا ہے :ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشین گوئیاں صاف طور پر غلط نکلیں۔
غرض اس قادیانی دجال کے مزخرفات، ملعونہ کلمات، مردودہ ہفوات، ملعونہ کفریات، بہت زیادہ ہیں ان کے لیے دفتر چاہیے۔
(فتاویٰ برکات حصہ سوم)
مرزا جس کا عقیدہ کفریہ اور باطل و ایمان سوز ہے اس کے بارے میں حضور شیرنیپال شرعی حکم تحریر کرتے ہیں:
مرزا اپنی کفریات کی بناپر یقینا کافر و مرتد نہ ا یسا کہ وہی کافر بلکہ جو اس کے اس عقیدئہ ملعونہ اور اقوال مطرودہ پر مطلع ہوکر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر، بلکہ جو اس میں شک وترددکوراہ دے وہ بھی کافر اور جو اس کی تکفیر میں چوں وچرا کرے وہ بھی کافر بلکہ جو اس کے ان اقوال یاان کے امثال پر مطلع ہوکرتاویلات کے جھوٹے حیلے، بہانے تلاشے وہ بھی کافر۔
شفاء شریف ج:۲،ص:۲۴۷ میں ہے:
نکفرمن لم یکفر من دان بغیرملۃ المسلمین من الملل اووقف فیھم اوشک۔ ہم ہراس شخص کو کافر کہتے ہیں جو کافر کوکافر نہ کہے یا اس کی تکفیر میں توقف کرے یاشک رکھے۔
صریح لفظوں میں تاویل نہیں سنی جاتی۔ فتاویٰ ہندیہ وغیرہامیں ہے:
قال انا رسول اللّٰہ اوقال بالفارسیۃ من پیغمبرم یریدبہ من پیغام می برم یکفر۔
یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہے یاکہے کہ میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ لے کہ میں کسی کاپیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں کافرہوجائے گا۔ (اس کی کوئی تاویل سنی نہیں جائے گی۔(فتاویٰ برکات حصہ سوم)
جس فرقہ کا ایسا باطل عقیدہ ہو اس سے دور رہنا اور سنی عوام کو ان کے چنگل سے بچانا ضروری ہے۔بشمول قادیانی دیگر تمام بد عقیدوں سے دوری و نفوری کے حوالے سے حضور شیرنیپال علیہ الرحمہ چند احادیث اور اقوال سلف اپنی کتاب فتاویٰ برکات میں نقل کیا ہے ،ان میں سے چند قارئین کے نذر ہیں،تاکہ مسلمان ان کی اتباع و ہم نشینی کی ہلاکت و تباہی اور انجام بد سے محفوظ رہیں اور ان وعیدات و عقابات سے بچیں جو ان کی صحبت و معیت اور ان کے ساتھ خورد ونوش ،شادی و رشتہ داری اور دیگر مراسم نبھانے سے من جانب شرع عائد ہوتے ہیں۔
(۱) صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم۔ان سے الگ رہوانہیں اپنے سے دوررکھوکہیں وہ تمہیں بہکانہ دیں اور فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
(۲)ا ور ابودائود شریف کی حدیث میں حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بیمار پڑیں تو پوچھنے نہ جائو۔ مرجائیں تو جنازے پرحاضر نہ ہو۔ابن ماجہ نے بروایت جابر اس قدرکا اضافہ فرمایا:وان لقیتموھم فلاتسلمواعلیہم۔اور اگر ان سے ملوتو سلام نہ کرو۔
(۳)عقیلی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان کے پاس نہ بیٹھو ساتھ پانی نہ پیاکرو۔ ایک ساتھ کھانا نہ کھائو۔ان سے شادی بیاہ نہ کرو۔ ابن حبان نے انہیں کی روایت سے اتنازائد کیالاتصلواعلیھم ولاتصلوامعھم۔ ان کے جنازے کی نماز نہ پڑھو، ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔
(۴)دیلمی نے معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں ان سے بیزار ہوں وہ مجھ سے بے علاقہ ہیں۔ ان پر جہاد ایسا ہے جیساکافر ان ترک ودیلم پر۔
(۵)ابن عساکر سے روایت کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب کسی بدمذہب کو دیکھو تواس کے روبروترش روئی کرو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہر بدمذہب کو دشمن رکھتاہے۔ ان میں کوئی پل صراط پر گزرنہ پائے گا بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر آگ میں گرپڑیں گے جیسے ٹڈیاں اور مکھیاں گرتی ہیں۔
اور غنیۃ الطالبین میں ہے:
فضیل ابن عیاض نے فرمایاجوکسی بدمذہب سے محبت رکھے اس کے عمل حبط (اکارت) ہوجائیں گے اور ایمان کانور اس کے دل سے نکل جائے گا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو جانتا ہے کہ وہ بندہ بدمذہب سے بغض رکھتا ہے تومجھے امید ہے کہ مولیٰ سبحانہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دے اگرچہ اس کے عمل تھوڑے ہوں ۔جب کسی بدمذہب کو راہ میں آتادیکھو تو تم د و سری را ہ لو۔
حضور شیرنیپا ل علیہ الرحمہ نے اپنے فتاویٰ میں قادیانی کے گرو گھنٹال مرزا غلام احمد قادیانی کے باطل عقائد و نظریات اور اس پر شرعی احکام واضح طورپر تحریر فرماکر مسلمانوں کے ایمان وعقیدے کی حفاظت کا سامان وہتھیار مہیا کردئے ہیں اور اپنے بعد علما کو یہ مزاج دیا ہے کہ جہاں بھی یہ فرقہ اپنی خباثت پھیلانے کی کوشش کرے اس کے خلاف تحریر و تقریر کی تلوار بے نیام لے کر میدان میں اتریں۔یہ فتویٰ آپ نے امریکا کے ایک شہر سورینام سے آئے ہوئے استفاکے جواب تحریر کیا تھا۔معاملہ یہ تھا کہ وہاں ایک پیر صاحب کا آنا جانا تھا،جو ہر فرقہ کو درست کہتا تھا،قادیانی کو بھی حق پرست کہتا تھا جس کی مضرت سے اس علاقہ کے مسلمان پریشان تھے اور پیری مریدی کے نام پروہاں کے مسلمانوں کو بڑی آسانی سے اپنا نوالہ و ہم نوالہ بنا رہے تھے،آپ سے اس بارے استفتا ہواتو دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ کی روشنی میں ایسے پیر کے چہرے سے نقاب کو ہٹایا اور اس علاقہ کو اس پیر مکار کے شر و فساد اور دینی نقصانات سے بچالیا گیا۔یہ فتویٰ وہاں پہنچا اور اس کے اثرات وہاں بہتر سے بہتر مرتب ہوئے اور اب نیپال میں بھی اس فتویٰ کی مدد سے قادیانیت کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے ۔اب جہاں کہیں بھی ملک نیپال میں قادیانیت سر ابھارے اس کی بیخ کنی کے لئے ایک متحدہ پلیٹ فارم سے علمائے اہل سنت نیپال کا حرکت میں آنا اور اس کے لئے لائحہ عمل و خطہ تیار کرکے عملی میدان میں آنا ان کا فرض منصبی اور شرعی ذمہ داری ہے۔
مگر جس تیز رفتاری کے ساتھ قادیانیت ملک نیپال میں پھیل رہی ہے اور جگہ جگہ اپنا دفتر و مرکز بنا کر اس کے ماتحت اجتماعات و نششت کر رہے ہیں اور اپنی تعداد روز بروز بڑھا رہے ہیں یہ بہت بڑا چیلنج ہے اور ایسے میں علماو مشائخ نیپال کا خاموش رہنا ان کا اپنے فرض منصبی سے غافل اور عوام اہل سنت کے اعتماد کو خون کرنے کے مترادف ہے۔ایسے حالات میں علما کی ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی صحیح رہنمائی کریں،ان کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لئے عملی اقدام کریں اور قادیانیت کے ناپاک وجود سے ملک نیپال کو پاک کرنے کے لئے ایک جٹ ہوکر سعی کریں۔ان کی دسیسہ کاریوں اور مذہبی و سماجی نقصانات اور خدشہ افتراق و انتشار کی شکایت حکومت سے کرکے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملائیں۔مگر ہمارے اکثرعلما و مشائخ کی توجہ تو اس طرف ہے ہی نہیں ،جس قادیانیت کے سیلاب میں علاقہ بہہ رہاہے،اسکول کالج کے نوجوان تنکا کی طرح بہہ رہے ہیں،انہیں تو صرف جلسہ و کانفرنس کی صدارت و سرپرستی کی فکر ہے،مریدوں اور متوسلین کی جیبوں پر نظر ہے۔جلسوںاور دیگر غیر ضروری کاموں کے لئےپلاننگ بنا لیتے ہیں،چندہ کے لئے علاقہ کی فہرست تیار کرلی جاتی ہے، سیٹھوں کا نام ازبر ہوجاتا ہے مگر سامنے جو قادیانیت کا دیو ہیکل جن کھڑا ہے اس کی اماتت کے لئے کوئی پلاننگ نہیں،اپنے علاقہ کے علما و ائمہ کی کوئی تربیت و ٹریننگ نہیں۔ہمارے علاقہ و اضلاع میں قاضی پر قاضی بنائے جارہے ہیں،ادارہ پر ادارہ کھولے جارہے ہیں،چندہ کے مراکز قائم کئے جارہے ہیں،محصلین کی ٹولیاں تشکیل دی جاتی ہے،دارالقضا پر دارالقضا کا افتتاح و اعلان ہورہا ہے،اپنے سپورٹر تیار کئے جارہے ہیں،اپنے مدح سراو کرامات گو ٹیم بنائی جارہی ہے،فلک شگاف نعرہ زن جتھہ وجود میں لایا جارہا ہے مگر گرد و نواح میں کیا ہورہا ہے اس کی فکر و خبر نہیں،کہاں ہمیں تباہ و برباد کرنے کے تانے بنے جارہے ہیں اس سے بے خبر ہیں،مسلمانوں کو کچلنے کے لئے کیا کیا اعدا نے تیاریاں کرلی ہیں اس کی پرواہ نہیں،کیا کیا فتنے سر اٹھا رہے ہیں اس سے کوئی سروکار نہیں،عصر حاضرمیں کس چیز کی ضرورت ہے اس کے لئے کوئی تگ و دو نہیں۔
جامعات میں والے جامعہ کی تزئین میں لگے ہیں ،بنات والے بنات کی بیوپاری میں محو ہیں،کچھ ادارے تو بند ہیں اور کچھ میں تو تعلیم نہیں اور کچھ میں قرآنی خوانی اور فاتحہ خوانی کا ہی بندو بست ہے۔بلکہ ایک ادارہ کے لیٹر پیڈ پر یہ اعلان پڑھنے کو ملا کہ سورہ بقرہ اور قرآن خوانی کے لئے ادارہ کی طرف رجوع کریں۔خطبا خطابت سے کرسی توڑ رہے ہیں،شعرا مائک پر لائیو مچل رہے ہیں،نقبا جھوٹی مدحت میں رطب اللسان ہیں اور بیچاری عوام تو خواب غفلت میں ہے یا اپنے علما کے بھروسے ہیں اور خوب جی بھر کر اچھل اچھل کر شعرا پر پیسے لٹاتی ہیں اور پیشہ ور مقررین کے اکاؤنٹ میں پیشگی رقوم جمع کر رہی ہے۔انہیں کیا معلوم کیسے کیسے فتنے نگلنے کے لئے جبڑا کھولے ہوئے ہیں،ان کی اولاد کسی بے راہ روی کی دلدل میں پھنستی جارہی ہیں اور کیا کیا لالچ دے کر اپنا لقمہ تر بنا رہے ہیں۔
ہمارے رہبر ان و قائدین عوام کو جواب تو دیں کہ صرف چندہ کرلینا ہی آپ کی ذمہ داری ہے،مکتب نما جامعات کا اشتہار اور پھر ان کے نام پر چندہ کے لئے اسفار ،بنات پر بنات اوپن کرنا ،بے نتیجہ جلسہ و کانفرنس کرنا اور دولت مند مریدوں اور متوسلین کی فہرست سازی ہی آپ کی ذمہ داری ہے،جگہ جگہ ، علاقہ در علاقہ ،شہر بہ شہر اور ضلع در ضلع کہیں قاضی تو کہیں اور کچھ بنایا جارہا ہے تو کیا اسی پر بس کرلینا کافی اور اپنی ذمہ داری کو نبھانا کہا جائے گا؟قضا و دیگر منصب کی جو تقسیم کاری ہورہی کیا یہیں تک اپنی تبلیغ کا فل اسٹاپ رکھیں گے یا آسماں سے آگے جہاں اور بھی ہے کے مصداق بھی بنیں گے اور بنائیں گے؟یہ بھی بتائیں کہ جن حضرات کو قاضی و امیر بنارہے ہیںان میں کتنے اس عہدہ و منصب کے اہل ہیں اور کتنے نا اہل ؟ نکاح خوانی کا ہی قاضی بنایا جارہا ہے،یا فسخ نکاح والا قاضی؟عید و بقرعید کے موقع پر سوئیاں اور گوشت و قورمہ کھانے والے قاضی یا قوم کے مسائل حل کرنے والا ؟حالات کی سنگینی سے انہیں آگاہ ہونا چاہئے یا نہیں؟باطل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والا مرد مجاہد نہیں بنایا جانا چاہئےیا نہیں؟قادیانیت کی بیخ کنی کرنے والے افراد کی ضرورت ہے یا نہیں؟قضاۃ بنانے کے ساتھ ہر علاقہ میں علما کی ٹیم تیار کرکے ہفتہ وارانہ تبلیغی دوروں کی تلقین نہیں ہونی چاہئے یا اس کام کے لئے کسی فرشتہ یا کسی مجدد کے آنے کا انتظار کیا جائے؟
قوم کے ایمان پر شبخوں مارنے کی تیاریاں باطل فرقے کر رہے ہیں،ہندوستان کی دہشت گرد تنظیمیں آریس ایس اور ہندو پریشد والے نفرت کی چنگاڑی کو شعلہ دے رہے ہیں،ملک نیپال کے ہندو مسلم کو آپس میں لڑانے کی سازش رچ رہے ہیں،جنگ و جدال کا ماحول بنایا جارہا ہے،جس کی تازہ مثال دیوپورا روپیٹھہ کا ہے،جسے علاقائی اور ہندوستان کے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا بڑھا چڑھاکر نشر کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف کفار کو اکسایا جارہا ہے۔ ایسے میں رہبران قوم کی خاموشی کو کیا کہا جائے،جلسوں کی صدارت و سرپرستی اور میلاد النبی کی محفلوں میں کرسی شکن خطابت تک خود کو محدود رکھنا اور اسی کو اصل خدمت و تبلیغ تصور کرلینے سے آپ کی جواب دہی ختم ہوجاتی ہے؟جو بھی ہوہم آپ کو حدیث پاک یاد دلادیتے ہیں اس کے بعد کیا کرنا ہے اور آپ کی ذمہ داری کیا ہے امید ہے اس جانب بھی توجہ دی جائےگی۔فرمان رسالت مآب ہے:
کلکم راع وکلکم مسؤول عن رعیتہ آپ میں سے ہر کوئی نگہبان ہو اورآپ سے آپ کی ذمہ داری اور عہدہ ومنصب کے بارے میں پوچھا جائیگا۔
یاد رہے صرف چیلنج مناظرہ ،یا اسٹیج سے للکار نے اور اتنا کہنے سے آپ عہدہ برانہیں ہوسکتے کہ جس کے مقدر میں گمراہی لکھا ہے اسے کیا جائے۔بلکہ جماعتی شکل میں ملکی سطح پر تحریک چلانی ہوگی ،ٹیم تیار کرنی ہوگی،علما کا قافلہ تیار کرنا ہوگا اور ارباب مدارس کے ساتھ تنظیم کے عہدہ دران بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے میدان عمل آئیں۔خاص طور پر مرکزیت کے دعویداروں کو اس طرف خصوصی توجہ دینی ہوگی ۔اور ہر فرد اس فتنے کا سدباب اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اپنی اولین ذمہ داری سمجھے۔
کچھ تدابیر:
1-جملہ علمائے اہل سنت نیپال آپسی فروعی نزاع کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قادیانی کے مقابل میں متحدہ محاذ آرا ہوکر اس گمراہ فرقہ کو پھیلنے سے روکیں۔
2-جلسوں کے اسٹیج اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر جو اپنے ہی سنی علما کے خلاف زبان و قلم کے تیر چلاتے ہیں یہ سلسلہ موقوف کریں۔
3-اردو اور نیپالی زبان میں عام و سادہ مضمون شائع کر کے اسکول و کالجزکے طلبہ اور دفاتر کے ملازمین میں مفت تقسیم کریں۔
4-ہر حلقہ کے ذمہ داران اپنے اپنے حلقہ کے ساتھ قادیانیت کے خلاف تحریک چلائیں اور اس فرقہ کی گمراہی اور باطل عقائد سے عوام کو مطلع کرکے ان کے ایمان و عقائد کی حفاظت کریں۔
5-اپنے اپنے حلقہ کے مساجد و مدارس کے ذمہ داروں کےساتھ مشورہ کرکے اپنے اپنے علاقہ میں قادیانیت کے خلاف مہم چلائیں اور اس کے تباہ کن و ایمان سوز نظریات و افکار اور اس کے منفی اثرات سے عوام کو مطلع کریں۔
6-جہاں جہاں قایانیت کے پیروکار قادیانیت کی تبلیغ میں سرگرم ہوں وہاں بلا تاخیر پہنچ کر اس کے منصوبوں کو خاک میں ملانے میںکامیابی حاصل کریں۔
7-جو علماو خطبا و پیران طریقت صرف محفلوں اور جلسوں کی دعوت پر ہی کسی شہر و علاقہ کا دورہ کرتے ہیں وہ اب ہفتہ وار علاقہ کا دورہ اہل علم کی ٹیم کے ساتھ کریں۔
8-اب تو نیپال میں قاضی اورا میر حضرات بہت ہوگئے ہیں وہ سب عہد کریں کہ سب سنی علمائے نیپال کے ساتھ نہیں تو اپنے مرکز دل کے ساتھ ہی قادیانی کے خلاف رزم گاہ میں تشریف لائیں گےاوراپنے عہدہ و منصب کی لاج رکھیں گےاور جن شخصیات نے قضاۃ و امراء کا تعین کیا ہے ان کی اولین ذمہ داری ہے کہ قادیانیت کے خلاف پلاننگ کے ساتھ میدان عمل میں آئیں۔
9-علمی اداروں کے ذمہ داران،صدور و منتظمین اور مدرسین اپنے اداروں میں تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور اپنے طلبہ کو عقائد کا درس دین ،تبلیغ کا سلیقہ اور دیگر مروجہ علوم و فنون سے بھی آراستہ کریں اور مدارس کی بدنظمی،تعلیمی خستہ حالی کے شکار ہیں ان میں تعلیمی روح پھونکیں۔
10-تمام علما متحد ہوکر حکومتی سطح پر میمورنڈم دے کر ان کے خلاف کارروائی کریں، جس طرح پاکستان وغیرہ میں یہ فرقہ کافر و غیر مسلم اقلیت قراردیا گیا ہےاسی طرح یہاں بھی کافر قرار دیا جائے، ورنہ حکومت اسے مسلم کے زمرے رکھےگی.تحریر، تقریر سے بس سماجی سطح پر فرق تو پڑے گا، لیکن حکومت تو اسے مسلمان ہی سمجھے گی.ابھی تو کوئی قادنیت پر تقریر بھی کہاں کرتے ،کم از کم بڑے شہروں کے بڑی کانفرنسیز میں اس کے خلاف تقریر کی ضرورت ہے۔مقررین مسلک اعلی کا مطلب ذکر اعلیٰ حضرت ہی سمجھتے ہیں کام نہیں۔مسلک اعلیٰ حضرت کو ذکر اعلیٰ حضرت ہی تک محدود رکھنے والے کچھ نہیں تو کم از فتاویٰ رضوی مترجم جلد15 سے قادیانی کے خلاف لکھے گئے اعلیٰ حضرت کے دو رسالوں کا ہی گہرائی سے مطالعہ کرلیں تو مسلک اعلیٰ حضرت کے صحیح مفہوم تک رسائی ہوجائے گی،فتاویٰ رضویہ کی تمام جلدوں کا مطالعہ کی دعوت و التجا ان کے لئے کلفت کا باعث ہوسکتی ہے اس لئے زیادہ زحمت میں ڈالنا مناسب بھی نہیں۔
11-قادیانیت کے خلاف ایک ملک گیر تنظیم بنائیں یا جو تنظیم پہلے سے ہی فعال ہو اس بینر تلے یہ کام انجام دیا جائے۔میرے خیال سے راشٹریہ علماکونسل اس کی طرف توجہ دے تو یہ کام بڑی حکمت و مصلحت اور دور اندیشی کے ساتھ انجام دیا جاسکتا ہے اور اس فرقہ کے صفایا یا کم از کم روکنے میںبہت حد تک کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔کیونکہ اب تک جتنی تنظیمیں ملک نیپال میں بنی ہیں ان سب میں قائدانہ صلاحیتوں کے حامل یہی ایک تنظیم ہے۔ جن حضرات کو اس تنظیم سے اختلاف ہو وہ یا تو اپنی روش و فکر بدلیں یا جس تنظیم سے وہ خود جڑے ہوں اسی کے ماتحت یہ کریں کہ جہاں جہاں قادیانیت عروج پر ہےوہاں اس کی ایک مخصوص ٹیم ہوجس میں مختلف علوم وفنون کے ماہرین شامل ہوں اور مختلف محاذ پر کام کی نوعیت تقسیم کرکے ردقادیانیت پر مخلصانہ کوشش کرے اور فتنہ قادیانیت کے سد باب اور ارتداد و الحاد کے سیلاب کو روکنے کے لئے بہترین اقدامات کرے۔
12-عام آدمی کم ازکم اس ذمہ داری کا احساس کرے کہ جب بھی اسے کوئی قادیانی فرد یا جماعت کسی بھی طرح ورغلائے خواہ نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر،بچی کی شادی میں مالی تعاون کرکے ،قرض اتار کریاکسی بھی طرح کی لالچ دے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرے تو فورا اہل کو اطلاع کرے۔
مختصر یہ ہے کہ اس گروہ کے گرو گھنٹال مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام کے مسلم و متفقہ عقائد و نظریات کے خلاف کفریہ عقائدونظریات گڑھ لئے،کئی ایک دعویٰ کئےحتیٰ کہ نبوت کا دعویٰ بھی کر بیٹھا،اللہ تعالیٰ،نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ ﷺ اور انبیاء کرام علیہم السلام کی شان اقدس میں توہین و گستاخیاں کرکے کافر و مرتد ہوگیا اور اسی کے کفریہ عقائد کی ترویج و اشاعت اس کے متبعین اور اس گروہ کے پرچارک کرتے ہیں اور انہیں پر ان گمراہوں کا ایمان ہے۔اور جو لوگ ایسی جرآت کریں ،اللہ جل شانہ اور تاجدار سالت ﷺ کی شان میں دریدہ دہنی کریں وہ ہر گز مسلمان نہیں،ان سے دور رہنا اور ہر طرح کی راہ و رسم ختم کرلینا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور اسی میں ایمان کی سلامتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
قُلْ أَبِاللہ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ۔(توبہ:۶۵، ۶۶)
ترجمہ: کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ اور کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزاء کرتے تھے، اب عذر مت بناؤ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔
قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
من کذب باحد من الانبیاء او تنقص احد منھم او برئ منہ فھو مرتد۔(الشفاء:۲/۲۶۲)
ترجمہ: جس کسی نے کسی نبی کی تکذیب کی یا تنقیص کی یا کسی نبی سے بری ہوا وہ مرتد ہے۔
علامہ ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
و یکفر اذا شکّ فی صدق النبی او سبہ او نقصہ و یکفر بنسبۃ الانبیاء الی الفواحش۔(الاشباہ و النظائر:۱۳۷)
ترجمہ: کافر ہوجاتا ہے جب کسی نبی کے سچا ہونے میں کوئی شک کرے یا گالی دے یا تنقیصِ شان کرے یا توہین سے نام لے، فواحش کو انبیاء کی طرف منسوب کرے۔
امام احمد رضا خان بریلوی قادیانیوں کے متعلق فرماتے ہیں :
یہ مرتد منافق ہیں ۔مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام بھی پڑھتا ہے اور پھر اللہ عزوجل یارسول اللہ یا کسی نبی کی توہین کرتا ہے ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہے قادیانی کے پیچھے نماز باطل محض قادیانی کو زکوۃ دینا حرام ہے اگر انہیں دے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی قادیانی مرتد ہے اس کا ذبیحہ محض نجس و مردار ، حرام قطعی ہے مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانیوں کو مظلوم سمجھنے والا اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم و ناحق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے۔( احکام شریعت حصہ اول )
کچھ تلخیاں تحریر میں آگئیں ہیں جس کے لئے معذرت خواہ ہوں مگر مؤدبانہ عرض ہے کہ خدا را حالات سے چشم پوشی نہ کریں ،ارد گرد کا جائزہ لیں اورقوم کی رہبری و قیادت کے لئے کہاں کس چیز کی ضرورت ہے اس کی طرف فوری توجہ دی جائے۔اپنے اپنے اختلافات کو اندرون خانہ رکھیں اور باطل قوتوں کے مقابل متحد ہوکر زبان و قلم کی تلوار کے ساتھ علاقائی دورہ کیا جائے اور میدان میں اسلامی دستہ اور علما کا قافلہ اتارا جائے ورنہ ؎
داستاں تک نہیں رہے گی داستانوں میں

گدائے مصطفیٰ ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی عفی عنہ
متوطن تاراپٹی ،دھنوشا(نیپال)
حال مقیم دوحہ قطر
6نومبر 2021ء

 

Spread the love

Check Also

ITTEHAD AHLE SUNNAT ZARURATO AHMIYAT

ITTEHAD AHLE SUNNAT Spread the love

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔