حضور شیرنیپال کا اعلیٰ حضرت سے عشق

حضور شیرنیپال کا اعلیٰ حضرت سے عشق
ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی
متھلا بہاری نگر پالیکا،تاراپٹی مشرقی محلہ،دھنوشا(نیپال)
حضور شیرنیپال رحمہ اللہ تعالیٰ مجدد دین و ملت امام احمدرضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیحد محبت فرماتے تھے ،مریدوں ،شاگردوں اور عوام اہل سنت کو بھی اعلیٰ حضرت سے محبت کرنے اور آپ کے فرمودات و فتاویٰ پر عمل کرنے کی ہدایت و تاکید فرماتے تھے۔ تحریر و تقریر ،مجالس و محافل اور ملاقاتی نششتوں میں بھی اس کی نصیحت کرتے تھے۔مسلک اعلیٰ حضرت پر اور موقف اعلیٰ حضرت پر بڑی شدت کے ساتھ عامل تھے ، اسی مسلک حق کی اشاعت و تشہیر کرتے تھے اور مسلمانوں کو اسی پر قائم و استقامت کی دعوت دیتے تھے۔مسلک اعلیٰ حضرت کے خلاف بولنے والے یا نرم پہلو اختیار کرنے والے کو بالکل قبول نہیں کرتے اور نہ ایسے کج فکروں سے کوئی تعلق رکھنے کے روادار تھے۔آپ کی کوئی ایسی مجلس ہی نہیں جس میں حضور اعلیٰ حضرت کا بارہا تذکرہ نہ ہوتا۔آپ کسی بھی استفتاء کا جواب تحریر کرنے سے پہلے اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ کا بالالتزام مطالعہ کرتے تھے پھر دوسری کتابوں کی طرف رجوع کرتے تھے۔تقریبا ًاڑتالیس سال تک ملک نیپال اور بیرون ملک اعلیٰ حضرت کے علمی وروحانی فیض کو آپ تقسیم فرماتے رہے ۔ اسی مسلک پر اپنے اہل عقیدت کو پابندی کے ساتھ کاربند رہنے کی تلقین کرتے رہے اور بیعت واجازت کے وقت مریدین وخلفاء سے تاحین حیات اس پر قائم ودائم رہنے کاعہدو پیمان لیتے ۔
حضور شیرنیپال سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کس درجہ عقیدت و محبت فرماتے تھے اور مسلک اعلیٰ حضرت کو کس جہت سے آپ دیکھتے تھے اور کس انداز میں اس پر عامل اور اس کے ناشر تھے ہندوستان و نیپال کے علما و مشائخ حتیٰ کہ عوام اہل سنت سے بھی مخفی نہیں ہے ، آپ نے اعلیٰ حضرت کی خدمات و افکار کی اشاعت بھی کی اور ان کی حقانیت و صداقت کا اعتراف بھی کی۔آپ اپنے ایک رسالہ ہدیۃ الانام جواب السورینام میں تحریر کرتے ہیں:
’’اعلیٰ حضرت مجدددین وملت امام اہل سنت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ عنا جنہوں نے دین متین کی سچی خدمت کی اور ناموس رسالت کی بھرپور حفاظت فرمائی تادم آخر ہر باطل کا مقابلہ کرتے رہے۔ طوائف نجدیہ ،وہابیہ، دیوبندیہ، چکڑالویہ، مرزائیہ اور ہربے دین، مرتدین، غیر مقلدین خذلھم المولیٰ تعالیٰ کاقلعہ قمع کیا اور ان کے عقائد فاسدہ اور خیالات باطلہ سے بلا خوف لومئہ لائم لوگوں کو روشناش کرایا، ان کے مفاسد برملا بیان فرمائے، مسلمانوں کو ان کے مکرو فریب سے آگہی بخشی۔ اس لیے یہ لوگ آپ سے بغض وعناد اور سخت عداوت رکھتے ہیں اور طرح طرح کی بدگوئی اور گستاخی ان کی شان میں کرتے ہیں۔ مگر اس کی ان سے کیاشکایت کہ وہ اعلیٰ حضرت کے بارے میں ایسا ویسا کہتے ہیں؟ جب کہ یہ لوگ شان الوہیت اور شان رسالت میں گستاخی کرنے سے ذرہ برابر نہیں ڈرتے۔ ان کے نزدیک ولی وہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو ابلیس لعین کے علم سے گھٹائے۔یابہائم وغیرہ کے علم سے تشبیہ دے۔ یا ان کے برابر یاختم نبوت کا انکار کرے۔(فتاویٰ برکات حصہ سوم،رسالہ ہدایت کا راستہ)
اس کے علاوہ اعلیٰ حضرت اور مسلک اعلیٰ حضرت کے حوالے سے حضور شیرنیپال کے ارشادات و فرمودات بھی ملاحظہ کریں آپ نے مختلف محفلوں میں ہدایت و نصیحت اہل مجلس کو دئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:
٭جلسہ ہو اور بریلی نہ ہو تو وہ جلسہ کا میابی سے دور رہتا ہے اور کمی محسوس ہوتی ہے۔
٭ہم سب اعلیٰ حضرت کے ماننے والے ہیں ، امام احمد رضا کے ماننے والے ہیں ،ہم اعلیٰ حضرت کو کیوں مانتے ہیں کہ وہ وہ عاشق رسول تھے ، اپنی جان عزیز کو ناموس رسول خدا ﷺ پر نثاور کرتے تھے۔
٭اعلیٰ حضرت اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے تھے۔
٭اللہ تعالیٰ فضل و احسان ہے کہ ہمارے ہاتھ میں اعلیٰ حضرت کے مسلک کا دامن ہے۔
٭عزت چاہتے ہو ، عظمت چاہتے ہو ، بلندی چاہتے ہوتو اعلیٰ حضرت کے مسلک کو مضبوطی سے پکڑو ۔
٭اعلیٰ حضرت کا مشن مدینہ میں چل رہا ہے ، مکہ میں چل رہا ہے۔
٭ہم اعلی حضرت کے پیرو ہیں ،مسلک اعلی حضرت کے پیروہیں۔اسی مسلک میں نجات ہے اور دوسرا مسلک کوئی نجات دے نہیں سکتا۔
٭اعلیٰ حضرت مجدددین وملت محدث بریلوی قدس سرہ کے مسلک پرچوں چرا ضال ومضل کا کام ہے۔
٭امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے مسلک سے انحراف گمرہی اور بے دینی ہے۔
٭مسلمانوں کوتنبیہ کی جاتی ہے کہ اس دور میں امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ کو اپنا مقتدیٰ ،پیشوا مانیں،جانیں۔
٭اعلیٰ حضرت کی تحقیق تحقیق ہے اس سے بڑھ کر کسی کی تحقیق نہیں ہو سکتی ہے۔اعلیٰ حضرت کی تحقیق پر ہمارا عمل ہے۔
٭اعلیٰ حضرت کا فضل و کرم ہے کہ ہم آپ بریلی شریف سے تعلق رکھتے ہیںاور ان شا ء اللہ ہمیشہ بریلی کا چراغ چمکتا ہی رہے گا ، دمکتا ہی رہے گا۔
٭امام اعظم کے مقلد بنو تو آنکھ بند کرکے ان کی تقلید کرو۔
٭بڑا مدرسہ ہونے سے مرکز ہوجاتا ہے ایسا نہیں ہے بڑا علم ہونا چاہئے ، بڑا تقویٰ ہونا چاہئے ،قرآن کا علم ہونا چاہئے ، حدیث کا علم ہونا چاہئے ، اعلیٰ حضرت سے بڑا کس کا علم ہے؟۔
٭سنی کا جلسہ جہاں ہو وہاں جاؤ، اعلیٰ حضر ت کے نام کا جلسہ جہاں ہو وہاں جاؤ، اعلیٰ حضرت کے مسلک کا پرچار ہو صحیح معنوں وہاں جاؤ۔
٭مارہرہ و بریلی سے جو جڑے گا وہ دنیا میں بھی کامیاب رہے گا اور آخر ت میں بھی کامیا ب رہے گا۔
٭اعلیٰ حضرت وہ ہیں ان کی برابری کا ان کے زمانے میں عرب ، عجم کہیں نہیں دیکھا گیا۔

(معارف حضور شیرنیپال)

Spread the love

Check Also

ITTEHAD AHLE SUNNAT ZARURATO AHMIYAT

ITTEHAD AHLE SUNNAT Spread the love

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔