حضور شیر نیپال فضائل و خدمات

حضور شیر نیپال -فضائل و خدمات:
از قلم: ابوالعطر محمد عبد السلام امجدی برکاتی (تاراپٹی نیپال)
بلبل بوستان قدس ، میکدئہ شریعت و طریقت کا چھلکتا جام ، خلیفہ حضور سید العلماء سید شاہ آل مصطفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضور شیر نیپال حضرت علامہ مفتی جیش محمد صدیقی برکاتی علیہ الرحمہ علوم ومعارف کے بحر ناپیدا کنار ، علمی وروحانی کمالات و فیوضات کے عظیم سنگم ، شمائل وخصائل مصطفیٰ کریم ﷺ کے مظہر ،صحابہ و تابعین کی علمی و روحانی وراثتوں کے امین و وارث اور اسلاف و اخیار کی حیات تابندہ کاایک ایسا عکس جمیل ہیں کہ جن کی حیات وخدمات کا ہر گوشہ و پہلو ضوفشاں و درخشاں ہے ۔ آپ چرخ علم و عرفان کے ایسے آفتاب ہیں جس کی روشنی سے نیپال کے کفرستان میں ایمان واسلام کا ایسا نور و اجالا پھیلا کہ فرقہ باطلہ جہاں حیران و ششدر ہوگیا وہیں شب دیجور کی تاریکیوں میں بھٹکنے والے لوگوں کو نور ہدایت میسر ہو ا ۔  آپ اپنے عظیم و بے مثیل کارناموں ، منفرد خصوصیات و امتیازات اور دینی ،ملی، سماجی خدمات و اثرات کے سبب ملک و بیرون ملک کے علماء و مشائخ اور عوام و خواص کے نزدیک انتہائی وقیع نظروں سے دیکھے جاتے تھے۔
آپ نے ہزاروں گم گشتگان راہ کو صراط مستقیم پر گامزن کیا،ان گنت دلوں کا میل دھو کر پاک و صاف اور لا تعداد ذہنوں اور سینوں کی کثافت و کدورت دور کر کے انہیں معطر فرمایا، بدعقیدگی کے خیمہ کو اکھاڑ کر مسلک اعلیٰ حضرت کا جھنڈا لہرایا۔آپ کی ذات وعظ و خطابت ، علم و عمل ، عقل و خرد ،فضل و کمال ،فکر و نظر ، صلاح و فلاح ،تبلیغ وارشاد ،شجاعت و بہادری کا مجمع اور عز م و استقلال کا کو ہ گراں تھی۔ حقانیت و صداقت کے روشن مینارے بھی ،مصلح قوم بھی اور مسلمانوں کی جان و شان اور شناخت بھی تھے۔جہاں آپ کے قلم کی سیاہی میں سرکار اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی علمی قوت و توانائی اور سرکار مفتی اعظم ہند کا رعب وجلا ل ہے وہیں حضور سید العلماء سید شاہ آل مصطفی قدس سرہ کی روحانی تائید وحمایت اور زبان فیض ترجمان میں حضور احسن العلماء سید شاہ مصطفی حید ر حسن قدس سرہ کا فیض و کرم اور سحر انگیزی بھی تھی۔
اللہ رب العزت نے آپ کو اپنے خم خانہ فضل و کرم سے وافر حصہ عطافرمایا تھا اور جو مقبولیت و رفعت آپ کو ملی ہے اس کی بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ملک نیپال میں علم و معرفت کے افق پر خورشید بن کر چمکنے والی یہ عبقری شخصیت وسیع العلم ہونے کے ساتھ رقیق القلب ،کریم النفس ،خلیق و شفیق ، نقی و تقی ، ناصح و واعظ ،زاہد و عابد ، صابر و شاکر ، خورد نواز ،علماء نواز،پاک طینت و پاکباز، خدا ترس اور مذہب و مسلک کے لئے حد درجہ درد مندی اور جاں سوزی کرنے والے مجاہد و قائد اور ملت اسلامیہ کے زلفوں کو سنوارنے والے تھے۔
اپنی عظمت خدا داد اورو سعت علمی کے با وجود چھوٹوں پر شفقت و پیار کے پھو ل لٹاتے اور بڑوں کی تعظیم و تبجیل فرماتے۔ نفاست طبع آپ کی شان ،تواضع و فرو تنی آپ کی پہچان ،ذکر و فکر ،  عبادت و ریاضت ،تسبیح و تہلیل آپ کی غذا، رد بد عقیدہ ، نشر دین و سنت آپ کا مشغلہ رہا اور اطاعت خدا عز وجل ، اتباع رسول اکرم ﷺ اور حب الہٰی و عشق نبی کو اپنا متا ع دنیا و عقبیٰ بنائے رکھا ۔ آپ کے دل میں دنیا کی محبت کی بجائے آخرت کی محبت و رغبت کا سمندر موجزن تھا، جن کو خود کی ہی فکر نہیں بلکہ دوسروں کو غرقاب ہونے سے بچانے کی فکر بھی دامن گیر رہتی تھی۔ جنہوں نے نام و نمود کے کوچہ و بازار اور حرص و ہوس کے دریا و صحرامیں سباحت و سیاحت کی بجائے بحر معرفت و طریقت میں غوظہ زن ہونے اور صحرائے عشق و محبت کی سیر کرنے میں زندگی بسر فرمائی۔جی ! یہ وہی باعظمت اور مقدس ذات ہے جس کی حیات طاعت و بندگی، اتباع شریعت و سنت ،تقدیس و تمجید خداوندی،مدح و نعت مصطفائی ، اوراد و وظائف ، شب بیداری ، نفس کشی ، غربا پر وری ، فغان نیم شبی ، گریہ تنہائی ،آہ سحر گاہی ، گداز قلبی ، سوز روحانی ، لذات ایمانیہ اور جذبات اسلامیہ سے پر تھی۔دقت نظر ، وسعت علم و ہنر ، سعی خدمت دین و خلق ، قول و فعل میں ہم آہنگی و یکسانیت اور الحب فی اللہ و البغض فی اللہ جیسی خوبیوں نے بارگاہ ایزدی اور دربار نبوی کی قربت و محبوبیت کا اہل بنادیا اور اللہ نے اپنے حبیب لیب ﷺ کے صدقہ و طفیل آپ کو ملک نیپال کی سر زمین پر مرجع انام بنا دیا جہاں علماء و عوام سبھی فیض پاتے رہے اور ان کی زندگی بھی تبسم کناں رہی۔
آپ نے ہر طرح سے ہر موقع پر دین کی نشر واشاعت اور قوم مسلم کی قیادت و رہنمائی فرمائی اور ایک ذمہ دار مذہبی قائد و رہبر ہونے کا حق ادا کیا ۔ایسی ہمت و حوصلہ اور جرأت وشجاعت کا مظاہر ہ کیا کہ حالات کی ناسازگاری ،اعداء و حاسدین کی بدخواہی اور باد مخالف کی تندی کے باوجود ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے کہ جن سے مسلمانان نیپال کا سر فخر سے اونچا ہوگیا ۔استقلال و ثبات قدمی کی ایسی تاریخ رقم کی کہ دو ر دور تک اس کی مثال نہیں ملتی۔آج اگر مسلمانان نیپال کے ہاتھوں میں مسلک اعلیٰ حضرت کا علم ہے تو یہ آپ جیسے عظیم مبلغ و داعی کی تبلیغ و سعی کا ثمرہ ہے۔مدارس قائم فرمائے ، مساجد کی بنیاد ڈالی، تنظیمیں قائم کیں ،علماء کا قافلہ اہل وطن کو دیا، مناظرے اور مباحثے کئے ، بڑے پیمانے پر نتائج خیز جلسہ و کانفرنس کئے ، بدعقیدوں کے رد و طر د اور عقائد اہل سنت کی تشہیر و تثبیت کے واسطے مختلف کتابیں تصنیف فرمائیں اور مسلمانوں کے شرعی مسائل کے حل کے لئے دارالافتاء و دارالقضا قائم کئے۔
ہندو نیپال میں آپ کا شمار ان مرشدان طریقت اور علماء شریعت کی صف میں ہوتا تھا جن کی زیارت ،مصافحہ ،دست بوسی اور صحبت و مجالست عبادت بھی اور باعث اجر و ثواب اور ذریعہ نجات و بخشش بھی ہوتی ہے۔خوب کہا ہے حضور سید نظمی میاں علیہ الرحمہ نے                                                                                                                        ؎
دیکھو یہ کیسا نورانی چہرہ ہے                                               –                                         مرشد کی زیارت بھی ایک عبادت ہے
نظمی تم بھی پاؤں پکڑ لو مرشد کے                                         –          ان کے قدموں کے نیچے بھی جنت ہے
آپ نےشہر جنکپور میں مسند نشیں ہوکرصرف جنکپور اور مضافات کو ہی اپنی دعوت وتبلیغ اور مسلک اعلیٰ حضرت کی اشاعت و حفاظت کا حصہ و دائرہ نہیں بنایا بلکہ ملک کے جملہ اضلاع و صوبہ جات اور علاقوں کو بھی باران تبلیغ سے سیراب فرمایا اور قابل رشک و فخر خدمات انجام دی ۔ اپنے نمائندے اور تلامذہ کی افواج بھیج کر فتح و کامرانی کا پرچم لہراتے رہے۔پہاڑی اور دوسرے علاقوں میں حضور شیرنیپال نے اپنے شاگردوں اور خلفاء کا لشکر دشمنان اسلام و سنیت سے نبرد آزمائی کیلئے جگہ جگہ تعینات کردیاہے اور یہ لشکر ایسے ایسے دشوار مقامات پر دین و سنیت کی خدمات انجام دے رہے ہیں کہ ان علاقوں کا سفر کرنا اتنا مشکل ہے کہ اس کا اندازہ انہیں لوگوں کو ہوگا جنہوں نے کبھی ان پتھریلی اور دشوار راستوں کا سفر کیا ہو ۔ ان علاقوں کے مسلمانوں ،علما کی سرگرمیوں کا جائزہ آپ بربر لیتے رہتےتھے اور موقع بہ موقع دورہ بھی فرماتے ۔
نیپال گنج اور اس کے اطراف میں اپنے خلیفہ اور چہیتے حضرت مولانا عبد الجبار منظری صاحب کو بھیج کر اور خود بھی متعدد بار ان علاقوں کا دورہ کرکے اور وہاں ہفتہ ہفتہ بھر قیام فرما کر لوگوں کودین سے جوڑتے رہے اور مسلک اعلیٰ حضرت کا شربت پلاتے رہے۔آپ کے فرستادہ منظری صاحب نے جو خدمات انجام دئے اور اہل سنت کو ان کے توسل سے جو فتوحات حاصل ہوئے ہیں شاید وہ کسی کے ذریعہ حاصل ہوں۔ تقریبا 48 سالوں سے نیپال گنج جیسے شہر میں مستقل قیام کرکے دین و سنیت کی تبلیغ ،تعلیم دین کے فروغ اور قوم و ملت کی زلفوں کو سنوارنے میں مصروف ہیں۔اور یہ حضور شیرنیپال علیہ الرحمہ اور فاتح نیپال گنج مولانا عبدالجبار منظری صاحب کی بے لوث خدمات عظیمہ اور ایثار و قربانی کی برکت ہے کہ کئی ایک ادارے اور مساجد یہاں اور علاقوں میں تبلیغی مشن میں مستعد ہیں۔
اسی طرح نرائن گھاٹ جہاں چند بدعقیدوں نے اپنی خباثت پھیلانے کی کوشش کی توآپ نے اپنے شاگرد و خلیفہ حضرت مولانا تسلیم الدین برکاتی کھونٹاوی کو مقابلہ کے لیے منتخب فرمایا، جنہوں نے ان سے مقابلہ کرکے ان مولویوں کو ذلیل و خوار کرکے شکست سے دوچار کردیا اور اہل سنت کی حقانیت کا پرچم لہرایا اور آج اس شہر میں حضور شیرنیپال کی سرپرستی میں ایک عظیم الشان ادارہ قائم ہے جہاں اسلامی عقائد و تعلیمات کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے اور اسی ادارہ کے وسیع صحن میں ایک خوبصورت جامع مسجد بھی ہے جہاں سے رشد و ہدایت کا کام بخوبی انجام دیا جارہا ہے۔اس شہر میں حضرت مولانا تسلیم الدین صاحب نے دین و سنیت اور حضور شیرنیپال کی ملی مسلکی مشن کے فروغ میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گذاردیا اور جب تک اس شہر میں رہے سنیت کی تشہیر کے لئے دل و جاں سے ہر ممکن کوشش کرتے رہے ۔اللہ آپ کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔
یونہی دمولی ،دولے گونڑا اور پہاڑ کے دیگر علاقوں میں بھی جہاں بدعقیدگی نے سرابھارنے کی کوشس کی ہے تو آپ کے شاگرد رشید اور خلیفہ ء مجاز حضرت مولانا محمد فیروز چمن برکاتی صاحب قبلہ نے اس کی سرکوبی کے لئے ہمیشہ مستعدی سے کام لیا ہے اور مسلمانان اہل سنت کی رہنمائی بڑی بہادری اور جرات سے کی ہے اور آج اس علاقہ میں حضرت شیرنیپال کے اس چہیتے خلیفہ کی ایسی دھاک جمی ہوئی ہے کہ بدعقیدوں کو اس علاقہ میں گھوسنے کے لئے سوچنا پڑتا ہے۔ (معارف حضور شیرنیپال)

Spread the love

Check Also

ITTEHAD AHLE SUNNAT ZARURATO AHMIYAT

ITTEHAD AHLE SUNNAT Spread the love

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔