حضور ﷺ کی محبت باعث نجات اور توہین سبب صد آفات

حضور ﷺ کی محبت باعث نجات اور توہین سبب صد آفات
ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی عفی عنہ
متھلا بہاری نگر پالیکا،تاراپٹی ،دھنوشا(نیپال)
وہ دانائے سُبل، ختم الرسل ،مولائے کل
جس نےغبار ِراہ کوبخشا فروغِ وادیِ سینا
(علامہ اقبال)
حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت و عقیدت کلمہ خواں امتی کے لئے تاج عزت و کرامت ،باعث صد افتخار،حاصل زیست،سرمایہ دارین اور نشان و معیار ایمان ہے۔ آپ ﷺ محبتوں کا محور ،  عقیدتوں کا مرکز ،عظمتوں کا میناراور آرزؤں کی آماجگاہ ہیں۔اور جب بندہ کا ایمان و عقیدہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے                                            ؎
انہیں جانا ،انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمدمیں دنیا سے مسلمان گیا
ایک مسلمان کو اس فلسفہ سے کبھی غافل و انجان نہیں رہنا چاہئے کہ حضور رحمت عالم ﷺ کی محبت و اتباع میں اس کی ابدی سعادتوں اور دارین کی کامیابی کا راز مضمر ہے ، اس کے بغیر مسلمانی کا دعویٰ بے سود ہے ،نیز مسلمان ہمیشہ ایمان و عشق رسالت کی تپش و حرارت سے سرخرو و کامیاب اور غالب و حاکم رہا ہے۔دیکھیں کس نفیس انداز میںقرآن میں عشق رسالت کی اہمیت اور نبی پاک ﷺ کی الفت ومحبت کے فلسفہ کو بیان کیا گیا ہے:
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ۔
(سورہ توبہ آیت نمبر24)
ترجمہ:تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کا مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
اور خود خاتم الانبیا ﷺ نے فرمایا :
لا يُؤْمِنُ أحدُكم حتى أَكُونَ أَحَبَّ إليه مِن وَلَدِه، ووالِدِه، والناس أجمعين.
تم میں سے کوئی مومن نہیں بن سکتا ،جب تک اسے مجھ سے اپنے ماں باپ، اولاد اور باقی سب لوگوں سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔
(صحیح بخاری، کتاب الایمان، رقم :۱۴ ، صحیح مسلم، کتاب الایمان ، حدیث نمبر177)
حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر ہر مسلمان پر واجب و ضروری اور جزو ایمان ہےاور جس میں یہ عنصر نہ ہو وہ منافق و شیطان ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا۔
(سورہ فتح آیت نمبر8-9)
بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا،تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو
علامہ اسماعیل حقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت عظیمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’يجب على الامة ان يعظموه عليه السلام و يوقروه فى جميع الأحوال فى حال حياته و بعد وفاته فانه بقدر ازدياد تعظيمه و توقيره فى القلوب يزداد نور الايمان فيه۔(روح البیان ج:7، ص:216، الناشر: دار الفكر- بيروت)
حضور نبی کریم ﷺکی ظاہری حیات مبارکہ اور وصال مبارک کے بعد تمام احوال میں آپﷺکی تعظیم و توقیر بجا لانا امت پر واجب ہے کیونکہ دلوں میں حضور نبی رحمت ﷺ کی جتنی تعظیم بڑھے گی اسی قدر ایمان بڑھے گا۔
مذکورہ آیات و حدیث پاک اور تفسیر سے یہ ظاہر ہے کہ حضور رحمت عالم ﷺ سے محبت و عقیدت ،عشق و الفت اور تعظیم و توقیرصرف ایمان نہیں بلکہ اصل ایمان اور جان ایمان ہے اور آپ ﷺ کی شان اقدس میں توہین وتنقیص اور آپ کے حکم سے عدول کفر وضلالت اور فعل شیطان ہے۔اب وہ توہین جس طریقے سے بھی ہو،جس زمانہ میں بھی اور جس ناپاک و ملعون سے ہو بلا شبہ یہ قابل مذمت اور وجہ ذلت ہے۔خواہ یمامہ سے مسیلمہ کذاب نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرکے توہین و تنقیص اور حکم عدولی کا آغاز کرے یا قادیان سے مرزا غلام احمد مسیح موعود،مجدد،مثیل،مہدی اور نبوت کا دعویٰ کرکے یہ جسارت کرےسب شیطان کے آلہ کار اور ابلیس کی سپاہی اور جہنم کی راہی ہیں۔ اس لئے جب بھی مسیلمہ کذاب کی ذریت یا مرزا غلام احمد قادیانی کی نسل ختم نبوت پر حملہ کرنے کی ناپاک کوشش کریں تو اہل ایمان زبان و قلم سے ان کے باطل نظریات کو طشت از بام کریں اور اہل ارباب اقتدار سخت ترین سزادیں اور عوام الناس ان سے دوری اختیار کریں اور ان کا مکمل سوشل بائیکاٹ کریں۔اور الحمدللہ جب بھی باطل قوتوں نے ناموس رسالت اور ختم نبوت پر حملہ کیا ہے ایمان کی حدت رکھنے والے اور نبی پاک ﷺ کے سچے عاشقوں اور جاں نثاروں نے زبان و قلم سے بھی جہاد کیا ہے اور شہ بطحاکی ناموس پر جان کی قربانی بھی پیش کی ہے اور آج بھی فدائیان ناموس رسالت کی ایک ایسی تابندہ کہکشاں ہے جس پر آسمان کی رفعتیں بھی ناز کرتی ہیں،عاشقان ناموس رسالت کا ایسا گلشن ہے جس کا ہر پھول رنگ و خوشبو میں اپنی مثال آپ ہے اور اس گلزار غنچہ چٹکا ہوا اور مشام ایمان کو معطر کردینے والاہے اور عقیدئہ ختم نبوت پر ایمان رکھنے والاہر سچا مومن یوں گنگتا رہے گا ؎

بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوا
نورِ اوّل کا جلوہ ہمارا نبی
فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد درود
ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

Spread the love

Check Also

بعض دارالافتا اور وہاں کے مفتیوں کے حالات

بعض دارالافتا اور وہاں کے مفتیوں کے حالات Spread the love

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔